علی
علی کی یاد میں کھویا ہوا ہوں
مجھے جنت کی بھی پروا نہیں ہے
علی دل ہیں، علی جان و جهان ہیں
جینی نقش قدم پھر یہ جبین ہیں
علی کا بغض جنونی دل می رکها
منافق، ملحد و مرتد وہی ہے
علی کے ذکر میں عظمت ملے گی
صحیح ہے، یہی صحیح ہے، یہی صحیح ہے
اگر دنیا میں عشق اور معرفت ہے
علی ہیں وہ، علی ہیں, وہ علی ہیں
علیؑ مولا، علیؑ حیدر، علیؑ حق
علیؑ حق ہیں، حق بیشک علیؑ ہیں
میلاد یوسفی
November 10th - 2026
مسافر
کسیں کیں شہر مے ہم تو مسافر ہیں
یں دوری یوں کے خاطر ہم متأثر ہیں
ہمارے دل کے شیشہ ٰ وہ صفا رکھا
یہاں تو ہر کسے کا نفس کافِر ہیں
ہماراں نا صحیح پر آپ کا یے نام
ھمارے دل کی دیواروں میں ہیں جے یں تو ظاہر ہیں
اونہے کیں پاس میں فرصت کہاں ہوگا؟
ہم اون کے یاد میں بسمل ہوا اللہ تو ناظر ہیں
میں اس دنیا کے درد اور غم مے ابھ تک مر چکھا ھو تا
یے اللہ کے کرم اور فضل ہیں جو ہم بہھے شاعر ہیں
اونہے کا نام ابھ تو دل می ہیں ھر دم
ابھیں تو (یوسفی) کا دل بھی ذاکر ہیں
Summer 2016